اب جو ملتا ہے تو وہ شخص کھنڈر لگتا ہے - Ghyas Mateen | غیاث متین | Urdu_Poetry | Ghazals | Nazms | Official website

2017-04-14

اب جو ملتا ہے تو وہ شخص کھنڈر لگتا ہے

ab-jo-milta-hai-to-wo-shakhs
(بشیر بدر کی نذر)
اب جو ملتا ہے تو وہ شخص کھنڈر لگتا ہے
اُس کی ٹوٹی ہوئی آواز سے ڈر لگتا ہے
شاخ سے ٹُوٹ کے پھل گِرنے کا موسم آیا
اب سنبھالے سے نہ سنبھلے گا شجر لگتا ہے
ریت پر اب جو چمکتے ہیں زمرد کے چراغ
یہ مری آبلہ پائی کا ثمر لگتا ہے
اپنی ہی ذات کے اندر کا سفر خُوب سہی
قاف تا قاف سفر ہو ، تو سفر لگتا ہے
وقت ، ہونٹوں پر دُعا بن کے لَرزتا ہے متین
آج کُھل جائے گا وہ بابِ اثر ، لگتا ہے!

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں